Top News

مجھے طویل عرصہ قبل آسٹریا میں کسی پاکستانی کے گھر جانے کا اتفاق ہوا‘ وہ صاحب تعمیرات کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے‘ عام سے کم تعلیم یافتہ انسان تھے‘ دو شادیاں کر رکھی تھیں‘ ایک بیوی پاکستانی تھی اور دوسری مراکش سے تعلق رکھتی تھی‘ہمارا مراکش کی خواتین کے بارے میں تصور ہے یہ خوبصورت‘ سلم اور اسمارٹ ہوتی ہیں جب کہ ہماری زیادہ تر عورتیں عام نین نقش کی حامل ہوتی ہیں مگر وہاں صورت حال بالکل مختلف تھی‘ ان کی مراکشی بیگم عام نین نقش کی ناٹے قد کی خاتون تھی
جب کہ پاکستانی بیوی گوری چٹی کشمیرن تھی‘ یہ دونوں بیگمات اوپر نیچے دو الگ الگ فلیٹس میں رہتی تھیں۔یورپ میں بیک وقت دو شادیاں رکھنا غیر قانونی ہیں چنانچہ مسلمان ایک بیوی کو سرکاری کاغذات میں ڈکلیئر کر دیتے ہیں اور دوسری بیوی صرف نکاح بیوی صرف نکاح تک محدود رہتی ہے‘ یہ لوگ عام طور پر ڈکلیئربیوی کو سرکاری اور دوسری کو نکاحی بیوی کہتے ہیں‘ ان صاحب نے بھی اسی قسم کا ارینجمنٹ کر رکھا تھا‘ پاکستانی بیگم سرکاری تھی جب کہ مراکشی بیوی نکاحی تھی یہ کہانی یہاں تک عام تھی‘ یورپ میں ایسے سیکڑوں لوگ موجود ہیں اور ان کی داستان تقریباً ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہے‘ اصل کہانی اس سے آگے آئے گی۔۔
میں اس خاندان میں چند چیزیں دیکھ کر حیران رہ گیا‘ خاندان میں مراکشی بیوی کو مرکزی حیثیت حاصل تھی‘ وہ پورے خاندان کی سربراہ تھی‘ وہ صاحب ‘ ان کی پاکستانی بیگم اور بچے سب مراکشی خاتوں کی بے انتہا عزت کرتے تھے‘ پاکستانی بیگم مراکشی خاتوں کو آپا اور پاکستانی بچے اماں کہتے تھے‘ پاکستانی بیگم کی سب سے چھوٹی بیٹی مراکشی بیگم کی گود میں بیٹھ کر اس کے ہاتھ سے کھانا کھاتی تھی‘ بڑے بچے یونیورسٹی جاتے تھے لیکن وہ بھی سوتیلی ماں سے پیار کرتے تھے اور دل سے اس کا احترام کرتے تھے۔پاکستانی بیگم اپنے ہاتھ سے اپنی سوتن کو وضو کراتی تھی اور اس کیلیے جائے نماز بچھاتی تھی‘وہ صاحب بھی دوسری بیگم پر بار بار نثار ہوتے تھے‘ یہ میرے لیے حیران کن منظر تھا‘ میں نے ایک شام اس صاحب کے سامنے اس حیرت کا اظہار کیا‘ اس نے قہقہہ لگایا ‘ دونوں بیگمات کو بلایا اور پھر اپنی کہانی سنانا شروع کر دی‘ اس نے بتایا پاکستانی بیگم اس کی کزن ہے‘ یہ مزاج کی تیز اور غصے کی سخت تھی‘ یہ شادی کے بعد بیگم کو آسٹریا لے آئے‘ دو بچے ہو گئے لیکن ان کی زندگی میں بے آرامی اور بے سکونی تھی‘ یہ سارا دن کام کرتے تھے‘ شام کے وقت گھر آتے تھےتو بیگم کی قِل قِل شروع ہو جاتی تھی۔
بیوی کی فرمائشیں اور مطالبات بھی غیر منطقی ہوتے تھے چنانچہ ان کی زندگی دوزخ بن کر رہ گئی ‘ یہ روز آتے جاتے راستے میں ایک کافی شاپ پر رکتے تھے‘ ان کی دوسری بیگم اس کافی شاپ میں کام کرتی تھی‘ وہ روز خاتون کو دیکھتے تھے‘ خاتون کی آنکھوں میں حیاء اور لہجے میں شائستگی تھی‘ یہ ہر وقت کام کرتی رہتی تھی‘ کافی شاپ میں اگر کوئی گاہک نہیں ہوتا تھا تو وہ کرسیاں اور میزیں صاف کرنا شروع کر دیتی تھی یا کاؤنٹر اور کچن کا سینک رگڑنے لگتی تھی اور یہ اکثر اوقات سیڑھی لگا کر کافی شاپ کا بورڈ صاف کرنے لگتی تھی‘ میں نے کبھی اس عورت کو کرسی پر بیٹھے نہیں دیکھا تھا۔’’میں اس کی ان تھک محنت سے بہت متاثر ہوا۔میں یہ دیکھ کر بھی حیران رہ گیا اس خاتون نے تین سال قبل یہ نوکری شروع کی اور یہ آخر تک اس کافی شاپ کے ساتھ چپکی رہی‘ اس دوران درجنوں ملازمین آئے اور چلے گئے‘ کافی شاپ کے دو مالکان بھی بدل گئے لیکن خاتون نے نوکری تبدیل نہ کی‘ یہ معمولی معاوضے پر پانچ لوگوں کا کام اکیلی کرتی رہی‘‘ صاحب کو آہستہ آہستہ خاتون میں دلچسپی پیدا ہو گئی‘۔خاتون بھی ان میں دلچسپی لینے لگی‘ یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ دونوں نے شادی کا فیصلہ کر لیا‘
خاتون نے شادی سے قبل دو عجیب و غریب شرطیں رکھ دیں۔اس کی پہلی شرط تھی‘ میں تمہاری پہلی بیگم اور بچوں کے ساتھ رہوں گیاور دوسری شرط تھی میں ملازمت نہیں کروں گی‘ میں گھر سنبھالوں گی‘ وہ صاحب ڈرتے ڈرتے دونوں شرطیں مان گئے‘ نکاح ہوا اور وہ صاحب دوسری بیوی کو لے کر گھر آگئے‘ پہلی بیوی نے آسمان سر پر اٹھا لیا لیکن یہ صرف ایک دن کا واویلا تھا‘ خاتوں نے اگلے دن پہلی بیگم کو پچاس فیصد اپنے ہاتھ میں لے لیا اور یہ دونوں ہفتے میں بہنیں بن گئیں‘ وقت گزرتا چلا گیا‘ مراکشی بیگم سلیقہ مند تھی‘ محنتی تھی ‘محبت سے لباب بھری ہوئی تھی‘ ان تھک تھی‘ وسیع دل کی مالک تھی اور یہ بے لوث تھی چنانچہ اس نے خدمت‘ محبتاور سادگی سے پورے گھرانے کا دل موہ لیا‘ یہ پورے خاندان کا مرکز بن گئی۔ وہ صاحب‘ ان کے بچے اور ان کی دونوں بیگمات بہت خوش تھے‘ صاحب خانہ نے دوسری شادی کے بعد بے انتہا ترقی بھی کی‘ یوں وہ ہر لحاظ سے شاندار ‘ مسرور اور دلچسپ خاندان تھا‘ میں نے کہانی کے آخر میں مراکشی بیگم سے پوچھا ’’آپ نے کیا جادو کیا‘ یہ انہونی ہوئی کیسے؟‘‘ خاتون نے بتایا‘ مراکش میں بزرگ خواتین اپنی پوتیوں اور نواسیوں کو دعا دیتی ہیں‘ جا اللہ تعالیٰ تمہیں فرشتہ دے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے تمہاری شادی کسی فرشتہ صفت انسان سے ہو‘میری دادی بھی مجھے یہ دعا دیا کرتی تھی
۔میں نے ایک دن اپنی دادی سے پوچھا‘ اماں مجھے فرشتہ ملے گا کیسے؟ تو میری دادی نے جواب دیا‘ تمہاری شادی جس سے بھی ہو تم اس کے گھر کو جنت بنا دینا وہ شخص شیطان بھی ہوا تو وہ فرشتہ بن جائے گا‘ میری دادی نے بتایا‘ فرشتے جنت اور شیطان دوزخ میں رہتے ہیں اور دنیا کی جو عورتیں اپنے گھروں کو دوزخ بنا دیتی ہیں ان کے گھروں میں فرشتے نہیں آتے ‘ میں نے دادی کی بات پلے باندھ لی‘ میں نے اس گھر کو جنت بنا دیا چنانچہ اس گھر کے سب لوگ فرشتہ بن گئے‘میری سوتن بھی فرشتہ ہو گئی۔آپ اب دوسری کہانی بھی ملاحظہ کیجیے‘ میں لاہور کے ایک صاحب کو جانتا ہوں‘ یہ بدصورتی میں مجھ سے بھی چند ہاتھ آگے ہیں‘ کالا رنگ‘ منہ پر چیچک کے داغ‘ چھوٹا ساقد اور کمر پر کب‘ یہ چاروں طرف سے بدصورت ہیں‘ یہ امیر بھی نہیں ہیں‘ بمشکل گزارہ ہوتا ہے‘ تعلیم بھی زیادہ نہیں ہے لیکن ان کی بیگم بے انتہا خوبصورت‘ نفیس اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں‘ یہ میڈیکل ڈاکٹر ہیں‘ یہ اپنے خاوند سے بے انتہا محبت کرتی ہیں‘ یہ اس کا بچوں کی طرح خیال بھی رکھتی ہیں۔۔میں اس عجیب و غریب ’’کمبی نیشن‘‘ پر حیران تھا‘
میں نے ایک دن اس صاحب سے بھی نسخہ کیمیا پوچھ لیا‘ یہ مجھے سیدھا اپنی بیگم کے پاس لے گیا اور میرا سوال اس کے سامنے رکھ دیا‘ بیگم نے قہقہہ لگایا اور بولی عورت کو مرد سے تین چیزیں درکار ہوتی ہیں‘ کیئر‘ محبت اور عزت اور یہ شخص ان تینوں میں کمال ہے‘ مجھے انھوں نے جتنی کیئر‘ محبت اور عزت دی وہ مجھے میرے بھائیوں‘ میری ماں اور میرے والد سے بھی نہیں ملی چنانچہ میں ہر وقت ان پر نثار ہوتی رہتی ہوں۔میں نے حیرت سے اس صاحب کو دیکھا اور ان سے پوچھا’’آپ نے یہ نسخہ کہاں سے سیکھا‘‘ یہ مسکرائے اور بولے ’’دنیا کا ہر مرد حور کو اپنی بیوی دیکھنا چاہتا ہے لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے حوریں شیطانوں کو نہیں ملتیں انسانوں کو ملتی ہیں‘ آپ خود کو انسان بنا لیں آپ کو دنیا میں بھی حوریں مل جائیں گی اور آپ آسمانوں پر بھی حوروں کے درمیان رہیں گے‘‘ یہ خاموش ہو گیا‘ میں نے اس سے پوچھا ’’اور انسان کون ہوتے ہیں‘‘ اس نے قہقہہ لگا کر جواب دیا۔۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی مقدس ترین مخلوق ہیں لیکن تعالیٰ نے اس مقدس ترین مخلوق سے انسان کو سجدہ کرایا‘کیوں؟ کیونکہ انسان کے پاس انسانیت کا جوہر تھا اور یہ وہ جوہر ہے جس سے فرشتے محروم ہیں‘ ہم انسان اگر زندگی میں ایک بار انسان بن جائیں تو ہمیں حوریں بھی مل جائیں اور ہمیں فرشتے بھی دوبارہ سجدے کریں ‘ میں نے اپنے وجود میں چھپی انسانیت کو جگا لیا تھا‘ میں نے انسان بننے کا عمل شروع کر دیا تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے میرا گھر اس حور کی روشنی سے بھر دیا‘ میں چیلنج کرتا ہوں دنیا کا کوئی شخص اپنے اندر موجود انسانیت جگا کر دیکھے اس کی بیوی خواہ کتنی ہی بوڑھی‘ ان پڑھ یا بدصورت ہو گی وہ حور بن جائے گی‘ وہ اس کا گھر روشنی سے بھر دے گی‘
جاوید چوہدری
صبح جلد جاگنے والی خواتین کے مقابلے میں رات گئے تک جاگنے والی خواتین میں بریسٹ کینسر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
برسٹل یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران 4 لاکھ خواتین کے جاگنے اور سونے کی عادات کا جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ رات گئے تک جاگنے کی عادت بریسٹ کینسر کا خطرہ 48 فیصد تک بڑھا دیتی ہے۔
تحقیق میں بھی یہ دریافت کیا گیا کہ جو خواتین 8 گھنٹے سے زیادہ سونے کی عادی ہوتی ہیں، ان میں بھی بریسٹ کینسر کی تشخیص کا خطرہ 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
محققین کے مطابق اس کی ایک وجہ صبح جلد اٹھنے والی خواتین کی نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ رات گئے تک جاگنے کے نتیجے میں خواتین کی نیند متاثر ہوتی ہے کیونکہ جسمانی گھڑی کے افعال پر اس عادت سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو اس جان لیوا مرض کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق اس حوالے سے مزید جائزہ لیا جائے گا کہ یہ میکنزم کس حد تک اثرات مرتب کرتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کی عادت کو بدلنا ہی صرف اس خطرے کو کم کرنے میں مدد نہیں دے سکتا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ معاملہ زیادہ پیچیدہ ہو مگر پھر بھی جلد سونے اور جاگنے سے خواتین میں اس مرض سے کافی حد تک بچاﺅ ممکن ہے۔
اس تحقیق کے نتائج نیشنل کینسر ریسرچ انسٹیٹوٹ کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے۔
ان کی اہمیت کا اندازہ اس مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ archive.org کی ویب سائٹ پر ایک کروڑ چالیس لاکھ کتب موجود ہیں، انگلش کتب کی تعداد: ا کروڑ 13 لاکھ 29 ہزار 9 سو 72، عربی کتب کی تعداد ایک لاکھ 42 ہزار 5 سو 19، جبکہ اردو کتب کی تعداد 37 ہزار 627 اور فارسی کتب کی تعداد 11 ہزار 758 ہے۔ 


انجیل کے قدیم ترین نسخے میں پیغمبر اسلام کا ذکر ،عیسائیوں میں ہلچل
Image may contain: text


کمال اتاترک مرنے سے پہلے اپنی وردی کو حسرت سے دیکھ رہا ہے یہ وھی شخص ھے جس نے ترکی میں خلافت کا خاتمہ کیا شریعت معطل کی آذان ، نماز پر پابندی لگائی الحمدللہ اب پھر خلافت کا احیاء ھورھا ھے اور اس کی نحوست کا مکمل خاتمہ ۔

No automatic alt text available.
ایک دوست کی طرف سے یہ مضمون موصول ہوا مجھے تو بہت اچھا لگا آپ بھی پڑھ لیجیئے

ڈاکٹر مورس بکائیے نے ’’صحیح بخاری‘‘ کی ایسی سو روایات کا انتخاب کیا، جن سے کسی نہ کسی طور سائنسی پہلو نکلتا تھا۔ بعد ازاں ان روایات کو سائنسی معیارات پر جانچ کر اسے ایک مقالے کی صورت دی اور اشاعت سے قبل اسے مطالعے کے لیے پیرس ہی میں مقیم بین الاقوامی شہرت یافتہ محقق،سیرت نگار اور اسلام کے بین الاقوامی قانون پر اتھارٹی کا درجہ رکھنے والے عالم باعمل ڈاکٹر محمد حمید اللہ(پیدائش فروری 1908،انتقال 17 دسمبر 2002ء) کی خدمت میں پیش کیا۔
ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق مورس بکائیے نے صحیح بخاری کی منتخب سو روایات میں سے اٹھانوے روایات میں بیان کردہ سائنسی حقائق کو حرف بہ حرف درست قرار دیا۔ تاہم مندرجہ ذیل دو روایت پر انہیں اعتراض تھا کہ یہ سائنسی بنیادوں پر تسلیم نہیں کی جا سکتیں۔اول یہ کہ(مفہوم):’’ مکھی کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہوتی ہے‘‘۔ثانیاً (مفہوم)’’ قبیلہ عرینہ کے وفد کی مدینے آمد کے بعد ایک مخصوص بیماری میں مبتلا ہونے پر ان کے لیے اونٹ کا پیشاب اوردودھ بطور دوا تجویز کرنا‘‘۔پہلی روایت پر ڈاکٹر موریس بکائیے کا اعتراض یہ تھا کہ مکھیاں تو بیماری پھیلاتی ہیں۔ان کے پروں میں شفا ہونا ممکن نہیں،جبکہ دوسری روایت میں اونٹ کے پیشاب کو بطوردوا تسلیم کرنے میں اسے تامل تھا۔
’’ڈاکٹر حمید اللہ نے موریس بکائیے سے کہا کہ میں نہ تو سائنس دان ہوں نہ میڈیکل ڈاکٹر ہوں، اس لیے میں آپ کے ان دلائل کے بارے میں سائنسی اعتبار سے تو کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن ایک عام آدمی کے طور پر میرے کچھ شبہات ہیں جن کا آپ جواب دیں پھر اس تحقیق کو اپنے اعتراضات کے ساتھ ضرور شائع کر دیں۔ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں نے میٹرک میں سائنس کی ایک دو کتابیں پڑھی تھیں ،اس وقت مجھے کسی نے بتایا تھا کہ سائنس دان جب تجربات کرتے ہیں تو اگر ایک تجربہ دو مرتبہ صحیح ثابت ہو جائے تو سائنس دان اسے پچاس فی صدر درجہ دیتا ہے اور جب تین چار مرتبہ صحیح ہو جائے تو اس کا درجہ اور بڑھ جاتا ہے اور چار پانچ مرتبہ کے تجربات میں بھی اگر کوئی چیز صحیح ثابت ہو جائے تو آپ کہتے ہیں فلاں بات سو فی صد صحیح ثابت ہو گئی ،حالاں کہ آپ نے سو مرتبہ تجربہ نہیں کیا ہوتا۔ ڈاکٹر موریس نے کہا کہ ہاں واقعی ایسا ہی ہے۔ اگر چار پانچ تجربات کا ایک ہی نتیجہ نکل آئے تو ہم کہتے ہیں کہ سو فی صد یہی نتیجہ ہے۔ اس پر ڈاکٹر حمیداللہ نے کہا جب آپ نے صحیح بخاری کے سو بیانات میں سے اٹھانوے تجربات درست قرار دے دیے ہیں تو پھر ان دو نتائج کو بغیر تجربات کے درست کیوں نہیں مان لیتے؟جب کہ پانچ تجربات کر کے آپ سو فی صد مان لیتے ہیں۔یہ بات تو خود آپ کے معیار کے مطابق غلط ہے۔ اس پر ڈاکٹر موریس بکائیے نے اسے تسلیم کیا کہ واقعی ان کا یہ نتیجہ اور یہ اعتراض غلط ہے۔دوسری بات ڈاکٹر حمید اللہ نے یہ کہی کہ میرے علم کے مطابق آپ میڈیکل سائنس کے ماہر ہیں، انسانوں کا علاج کرتے ہیں۔ آپ جانوروں کے ماہر تو نہیں ہیں تو آپ کو پتا نہیں کہ دنیا میں کتنے قسم کے جانور پائے جاتے ہیں؟ کیا آپ کو پتا ہے کہ دنیا میں کتنی اقسام کی مکھیاں ہوتی ہیں؟ کیا آپ نے کوئی سروے کیا ہے؟ دنیا میں کس موسم میں کس قسم کی مکھیاں پائی جاتی ہیں؟ جب تک آپ عرب میں ہر موسم میں پائی جانے والی مکھیوں کا تجربہ کر کے اور ان کے ایک ایک جزو کا معائنہ کر کے لیبارٹری میں چالیس پچاس سال لگا کر نہ بتائیں کہ ان میں کسی مکھی کے پر میں کسی بھی قسم کی شفا نہیں ہے،اس وقت تک آپ یہ مفروضہ کیسے قائم کر سکتے ہیں کہ مکھی کے پر میں بیماری یا شفا نہیں ہوتی۔ڈاکٹر مورس بکائیے نے اس سے بھی اتفاق کیا کہ واقعی مجھ سے غلطی ہوئی۔پھر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اگر آپ تحقیق کر کے ثابت کریں کہ مکھی کے پر میں شفا نہیں ہوتی تو یہ کیسے پتا چلے گا کہ چودہ سو سال پہلے ایسی مکھیاں نہیں ہوتی تھیں،ہو سکتا ہے ہوتی ہوں،ممکن ہے ان کی نسل ختم ہو گئی ہو۔جانوروں کی نسلیں تو آتی ہیں اور ختم ہو جاتی ہیں۔روز کا تجربہ ہے کہ جانوروں کی ایک نسل آئی اور بعد میں وہ ختم ہو گئی۔ تاریخ میں ذکر ملتا ہے اور خود سائنس دان بتاتے ہیں کہ فلاں جانور اس شکل اور فلاں اُس شکل کا ہوتا تھا۔ ڈاکٹر موریس بکائیے نے اسے بھی تسلیم کیا۔ ڈاکٹر حمید اللہ صاحبؒ نے کہا کہ میں بہ طور ایک عام آدمی کے یہ سمجھتا ہوں کہ بعض بیماریوں کا علاج تیزاب سے بھی ہوتا ہے۔دواؤں میں کیا ایسڈ شامل نہیں ہوتے؟جانوروں کے پیشاب میں کیا ایسڈ شامل نہیں ہوتا؟ ہو سکتا ہے کہ بعض علاج جو آج خالص اور آپ کے بقول پاک ایسڈ سے ہوتا ہے تو اگر عرب میں اس کا رواج ہو کہ نیچرل طریقے سے لیا ہوا کوئی ایسا لیکویڈ جس میں تیزاب کی ایک خاص مقدار پائی جاتی ہو ،وہ بطور علاج کے استعمال ہوتا ہو تو اس میں کون سی بات بعید از مکان اور غیر سائنسی ہے۔پھر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آج سے کچھ سال پہلے میں نے ایک کتاب پڑھی تھی۔ایک انگریز سیاح تھا جو جزیرہ عرب کی سیاحت کر کے گیا تھا۔ اس کا نام ’’ڈاؤنی‘‘ تھا۔ اس نے عرب کا دورہ کیا تھا اور دو کتابیں لکھی تھیں، جو بہت زبردست سمجھی جاتی ہیں۔ ایک کا نام Arabia deserta اور دوسری کا نام Arabia Petra ہے۔یعنی جزیرہ عرب کا صحرائی حصہ اور جزیرہ عرب کا پہاڑی حصہ۔انہوں نے کہا کہ اس شخص نے اتنی کثرت سے یہاں سفر کیا ہے۔یہ اپنی یادداشت میں لکھتاہے کہ جزیرہ عرب کے سفر کے دوران ایک موقع پر میں بیمار پڑ گیا،پیٹ پھول گیا،رنگ زرد پڑ گیا اور مجھے زرد بخار کی طرح ایک بیماری ہو گئی، جس کا میں نے دنیا میں جگہ جگہ علاج کروایا، لیکن کچھ افاقہ نہیں ہوا۔آخرکار جرمنی میں کسی بڑے ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ جہاں تمہیں یہ بیماری لگی ہے وہاں جاؤ، ممکن ہے کہ وہاں کوئی مقامی طریقہ علاج ہو یا کوئی عوامی انداز کا کوئی دیسی علاج ہو، کہتے ہیں کہ جب میں واپس آیا تو جس بدو کو میں نے خادم کے طور پر رکھا ہوا تھا اس نے دیکھا تو پوچھا کہ یہ بیماری آپ کو کب سے ہے؟ میں نے بتایا کہ کئی مہینے ہو گئے ہیں اور میں بہت پریشان ہوں، اس نے کہا کہ ابھی میرے ساتھ چلئے ، وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر گیا اور ایک ریگستان میں اونٹوں کے باڑے میں لے جا کر کہا،آپ کچھ دن یہاں رہیں اور اونٹ کے دودھ اور پیشاب کے سوا کچھ اور استعمال نہ کریں،چناں چہ ایک ہفتے تک یہ علاج کرنے کے بعد میں بالکل ٹھیک ہو گیا۔مجھے حیرت ہے۔‘‘
ڈاکٹر حمید اللہ نے موریس بکائیے سے کہا یہ دیکھیے کہ 1925-26ء میں ایک مغربی مصنف کا لکھا ہوا ہے۔اس لیے ہو سکتا ہے کہ یہ سابق طریقۂ علاج ہو۔ موریس بکائیے نے اپنے دونوں اعتراضات واپس لے لیے اور اس مقالے کو انہوں نے اپنے دونوں اعتراضات کے بغیر ہی شائع کر دیا۔
آپ حیران ہوں گے میٹرک کلاس کا پہلا امتحان برصغیر پاک و ہند 1858ء میں ہوا
اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ برصغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں
اس لیے ہمارے پاس " پاسنگ مارکس " 65 ہیں تو برصغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔
دو سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس 33 کر دیے گئے
اور ہم 2018 میں بھی ان ہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔
جاپان کی مثال لے لیں تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھایا جاتا ہے
اور وہ " اخلاقیات " اور " آداب " ہیں۔
حضرت علیؓ نے فرمایا:
"جس میں ادب نہیں اس میں دین نہیں"۔
مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اور ہمیں ابھی تک ان کی یہ بات معلوم کیوں نہ ہو سکی۔
بہر حال، اس پر عمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے۔
ہمارے ایک دوست جاپان گئے اور ایئر پورٹ پر پہنچ کر انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اور پھر ان کو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔
یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز...
اشفاق احمد صاحب کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا اور انہوں نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ میں استاد ہوں وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے...
اس دن مجھے معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز استادوں کی عزت میں ہے...
آپ یقین کریں استادوں کو عزت وہی قوم دیتی ہے جو تعلیم کو عزت دیتی ہے اور اپنی آنے والی نسلوں سے پیار کرتی ہے۔
جاپان میں معاشرتی علوم " پڑھائی" نہیں جاتی ہے..
کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہے اور وہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کے ساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں۔
جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں...
صبح آٹھ بجے اسکول آنے کے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے۔
دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریں
جو صرف نقل اور چھپائی پر مشتمل ہے،
ہمارے بچے " پبلشرز " بن چکے ہیں۔
آپ تماشہ دیکھیں جو کتاب میں لکھا ہوتا ہے
اساتذہ اسی کو بورڈ پر نقل کرتے ہیں..
بچے دوبارہ اسی کو کاپی پر چھاپ دیتے ہیں،
اساتذہ اسی نقل شدہ اور چھپے ہوئے مواد کو امتحان میں دیتے ہیں...
خود ہی اہم سوالوں پر نشانات لگواتے ہیں اور خود ہی پیپر بناتے ہیں اور خود ہی اس کو چیک کر کے خود نمبر بھی دے دیتے ہیں...
بچے کے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ بھی خود ہی صادر کر دیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اور قابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں....
جن کے بچے فیل ہو جاتے ہیں وہ اس نتیجے پر افسوس کرتے رہتے ہیں اور اپنے بچے کو "کوڑھ مغز" اور "کند ذہن" کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔
آپ ایمانداری سے بتائیں اس سب کام میں بچے نے کیا سیکھا...
سوائے نقل کرنے اور چھاپنے کے؟
ہم 13، 14 سال تک بچوں کو قطار میں کھڑا کر کر کے اسمبلی کرواتے ہیں اور وہ اسکول سے فارغ ہوتے ہی قطار کو توڑ کر اپنا کام کرواتے ہیں،
جو جتنے بڑے اسکول سے پڑھا ہوتا ہے
قطار کو روندتے ہوئے سب سے پہلے اپنا کام کروانے کا ہنر جانتا ہے ۔
ہم پہلی سے لے کر اور دسویں تک اپنے بچوں کو " سوشل اسٹڈیز " پڑھاتے ہیں اور معاشرے میں جو کچھ ہو رہا ہے
وہ یہ بتانے اور سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ ہم نے کتنا " سوشل " ہونا سیکھا ہے؟
اسکول میں سارا وقت سائنس " رٹتے " گزرتا ہے اور آپ کو پورے ملک میں کوئی "سائنس دان" نامی چیز نظر نہیں آئے گی....
کیونکہ بدقسمتی سے سائنس "سیکھنے" کی اور خود تجربہ کرنے کی چیز ہے اور ہم اسے بھی "رٹّا" لگواتے ہیں۔
ہمارا خیال ہے کہ اسکولز کے پرنسپل صاحبان اور ذمہ دار اساتذہ اکرام سر جوڑ کر بیٹھیں...
اس "گلے سڑے" اور "بوسیدہ" نظام تعلیم کو اٹھا کر پھینکیں،
بچوں کو "طوطا" بنانے کے بجائے "قابل" بنانے کے بارے میں سوچیں۔
اصلی شہد کی پہچان کے جتنے گر کتابوں میں موجود ہیں جعلسازوں نے ان سب کا توڑ کر لیا ہے۔ اب میرے علم کی حد تک صرف تین طریقے رہ گئے ہیں جن سے شہد کی پہچان کی جا سکتی ہے۔
(۱) نمک کی ڈلی شہد میں گھمائیں۔ آپ جتنی دیر چاہے نمک حل کر لیں شہد میں نمک کا ذائقہ نہیں آئے گا۔
(۲) ان بجھے چونے کی ایک چھوٹی سی ڈلی لے کر اسے تھوڑے سے شہد میں ڈبو دیں۔ اگر چونا ویسے ہی پڑا رہے تو شہد خالص ہے۔ اگر اس میں سے چڑ چڑ کی آواز آئے یا دھواں نکلے تو خالص نہیں ہے۔
(۳) شہد کے خالص ہونے کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو خالص شہد استعمال کرائیں تو ان کی شوگر نہیں بڑھتی۔
حضرت ابوہریرہؓ سے ایک حدیث مروی ہے کہ جو شخص مہینے میں صبح تین دن شہد چاٹ لے اس کو اس مہینے میں کوئی بڑی بیماری لاحق نہ ہو گی۔
شہد کی افادیت کا علم آپ کو اس بات سے ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لیے شہد، دودھ اور شراب الصالحین کی نہریں بنائی ہیں۔
حضرت ابوسعید خدریؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور کہنے لگا ’’حضورصلی اللہ علیہ وسلم! میرے بھائی کو دست لگے ہوئے ہیں، کوئی علاج تجویز فرمائیے۔‘‘
آپؐ نے فرمایا اسے شہد پلاؤ۔
وہ چلا گیا۔ اگلے روز پھر آیا اور کہنے لگا حضورؐ! میں نے اسے شہد پلایا مگر افاقہ نہ ہوا۔ آپؐ نے فرمایا اسے پھر شہد پلاؤ۔ تین چار دفعہ ایسا ہی ہوا۔ آپ ؐنے فرمایا اللہ کا فرمان سچا ہے، تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ شہد میں ہر جسمانی اور روحانی مرض کے لیے شفا ہے۔ اس لیے اے لوگو! تم قرآن مجید اور شہد دونوں کو تھامے رکھو۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ قرآن و حدیث سے استفادہ کرتے ہوئے شہد سے ہر مرض کا علاج کرتے تھے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شہد کے شفا بخش ہونے میں تو بقول قرآن و حدیث کوئی شک نہیں ہے لیکن یہ گرم مزاجوں کو موافق نہیں۔ اس لیے جب کسی گرم مزاج والے کو شہد استعمال کرائیں تو اس میں ٹھنڈی ادویہ کا اضافہ کر کے اس کی تعدیل کر لیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ شہد ملا پانی استعمال کرنے سے فائدہ بڑھ جاتا ہے۔
شہد بچے کی پیدائش سے لے کر مرتے دم تک استعمال کرایا جاتا ہے۔ بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو گھٹی کے طور پر اسے شہد چٹایا جاتا ہے اور جب مریض قریب المرگ ہوتا ہے تب بھی حکیم جان بہ لب مریض کے لیے شہد ہی تجویز کرتا ہے۔ اس لحاظ سے شہد اولین غذا ہے اور آخری بھی …
لندن کے عجائب گھر میں فرعون کی لاش پر شہد کی مکھی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ سکندر اعظم کے زمانے میں لوگ شہد کے علاوہ کسی میٹھی چیز کے ذائقے سے متعارف نہ تھے۔
شہد مقوی اعضائے رئیسہ ہے۔، دل، دماغ معدہ اور جگر کو طاقت بخشتا نیز قوت مردمی بڑھاتا ہے۔ اگر اس کو دودھ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو وہ مادہ منویہ پیدا کرتا ہے۔ مصفی خون ہے اور مولد خون بھی۔ آنکھوں کی بینائی تیز کرنے کے لیے آنکھوں میں لگایا جاتا ہے۔
شہد زخموں کو صاف اور مندمل کرتا ہے۔ ورموں کو پکاتا ہے اور پھوڑتا ہے۔ شہد اور مچلی کی چربی ہم وزن ملانے سے بہترین قسم کا مرہم تیار ہوتا ہے۔ شہد اور کلیجی کو ملا کر مرہم تیار کریں تو پھوڑے پھنسیوں اور زخموں کے لیے بے حد مفید ہے۔
اگرچہ شہد تقریباً ہر مرض کے لیے مفید ہے مگر ذیل میں اس کے چیدہ چیدہ فوائد بیان کیے جاتے ہیں۔
¤ درد شقیقہ
یہ درد سر کے نصف حصہ میں ہوتا ہے۔ جو جوں سورج طلوع ہوتا ہے اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ غروب آفتاب کے وقت درد ختم ہو جاتا ہے۔ مریض کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سر ہتھوڑے سے توڑا جا رہا ہے اس کا علاج یہ ہے کہ جس حصہ میں درد ہو اس کے مخالف سمت کے نتھنے میں ایک بوند شہد ڈالیں ان شاء اللہ فوراً افاقہ ہو گا۔
¤ تھکن
دماغی اور جسمانی محنت سے بدن تھکن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے ایک گلاس گرم پانی میں دو بڑے چمچ شہد ملا کر پئیں، جسم ہشاش بشاش ہو جائے گا۔
¤ فالج اور لقوہ
شہد خالص، ادرک کا پانی، پیاز کا پانی ایک یاک پاؤ لے کر بوتل میں ڈالیں۔ بوتل کا چوتھا حصہ خالی رہے۔ تین دن رکھنے کے بعد چھ چھ ماشہ روزانہ صبح استعمال کریں اور چار تولہ تک لے جائیں۔ ان شاء اللہ دونوں امراض سے نجات مل جائے گی۔
¤ یاداشت
طالب علموں، اساتذہ، وکلا اور علماء کے لیے یہ معجون بہت مفید ہے۔
مال کنگنی مقشر (چھلی ہوئی) ۱۴ تولہ، دار فلفل ۱۰ تولہ، سونٹھ دس تولہ، عاقرقرحا چار تولہ، ان سب چیزوں کو پیس کر گائے کے گھی میں لت پت کریں اور دو گنا شہد ملا کر معجون بنائیں اور ایک تا دو چمچ صبح نہار منہ دودھ سے لیں۔ ان شاء اللہ یاد داشت تیز ہو جائے گی اور بچن کی بھولی ہوئی باتیں بھی یاد آنے لگیں گی۔
¤ کان بجنا
بعض مریضوں کے کانوں کے اندر باجے سے بجتے محسوس ہوتے ہیں اور بھن بھن کی آواز آتی ہے اس کے لیے چھ ماشہ شہد (ایک چھوٹی چمچ) میں چار رتی قلمی شورہ حل کر کے تھوڑے سے گرم پانی میں حل کر کے ۲۔۳ قطرے کانوں میں ٹپکائیں۔ ان شاء اللہ فائدہ ہو گا۔
¤ دانتوں کی مضبوطی
شہد کو سرکے میں ملا کر کلیاں کرنے سے دانت مضبوط ہو جاتے ہیں۔
¤ منہ کے زخم اور زبان پھٹنا
شہد ۷ تولہ، سہاگہ ایک تولہ، گلیسرین چھ ماشہ بوقت ضرورت منہ کے زخموں اور پھٹی ہوئی زبان پر لگائیں۔ چند دنوں میں فائدہ ہو گا۔
¤ عرق النساء
میرے بہت اچھے دوست قاری فصیح الدین عرق النساء کے دردوں کے لیے سملو، چاکسو، سونٹھ، مرچ سیاہ ۵۔۵ تولہ میں ایک کلو شہد خالص ملا کر صبح دوپہر شام دو دو چھوٹے چمچے کھلاتے ہیں۔ چند دنوں میں مرض رفع ہو جاتا ہے۔ مولانا عبدالرشید اصغر کھڈیاں کے نامور عالم ہیں۔ انہیں طب سے بھی شغف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مکئی کے بھٹے سے دانے اتار کر جلائیں اور دو گنا شہد ملا کر صبح دوپہر شام لیں، پرانی سے پرانی ہچکی تین دن میں دور ہو جائے گی۔
¤ امراض قلب
دل کے امراض کے لیے آب ادرک ۲۰ تولہ، شہد ۲۰ تولہ، لہسن ۲۰ تولہ کوٹ کر ان سب کو ملا لیں اور آگ پر جوش دیں۔ صبح دوپہر شام کھانے کے بعد ایک ایک چمچ لیں۔ دل کی اگر تین شریانیں بھی بند ہوں تو اس کے استعمال سے کھل جاتی ہیں۔
دل کے لیے دوسرا مفید نسخہ یہ ہے کہ ادرک کا پانی دس قطرے، لہسن کا پانی ۱۰ قطرے، سفید پیاز کا پانی ۱۰ قطرے، شہد آدھی چمچی ان سب کو ملا کر صبح و شام لیں۔ زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کافی ہے۔
¤ پیشاب کی رکاوٹ
پیشاب کی رکاوٹ دور کرنے کے لیے دو چھوٹے چمچے شہد ایک پیالی پانی میں حل کریں اور چار ماشہ سرد چینی شامل کر کے استعمال کرائیں۔ ان شاء اللہ فوراً پیشاب جاری ہو گا۔
¤ شوگر
شوگر کے علاج میں میٹھا منع ہے مگر شہد اگر خالص دستیاب ہو جائے تو صبح دوپہر شام ایک ایک چمچ میں چار چار رتی سلاجیت ملا کر استعمال کریں۔ اس سے شوگر اعتدال پر آ جائے گی۔
¤ موٹاپا
موٹاپا بہت خطرناک مرض ہے۔ اس سے نجات کے لیے چینی، چاول اور چکنائی سے پرہیز کریں اور ۲۵ تولہ شہد، ایک تولہ ان بجھا چونا کھرل کر کے کپڑے میں سے گزاریں اور روزانہ صبح شام چھ چھ ماشہ استعمال کریں۔اس کے مسلسل استعمال سے موٹاپا دور ہو جائے گا۔
¤ دیگر امراض
بولی تیزاب (Uric Acid) دور کرنے کے لیے صبح شام ایک چمچ شہد استعمال کریں۔ بولی تیزاب بدن سے خارج ہو جائے گا۔
¤ اگر کسی شخص کا مادہ تولید کمزور ہو، لذت مباشرت سے محروم ہو تو گرم دودھ میں شہد ملا کر رات کو پینے سے قوت بحال ہو جائے گی اور پشت میں طاقت آ جائے گی۔
سفید پیاز کا پانی ایک پاؤ، شہد خالص تین پاؤ ملا کر ہلکی آنچ پر پکائیں، جب پانی خشک ہو جائے اور صرف شہد باقی رہ جائے تو صبح نہار منہ اور رات سوتے وقت ایک ایک بڑی چمچ شہد استعمال کرے۔ فائدے خود ہی ظاہر ہو جائیں گے۔
جن خواتین کا رحم کمزور ہو اور اس وجہ سے حمل نہ ٹھہرتا ہو وہ اسگندھ ۲ تولہ آدھ سیر پانی میں جوش دیں۔ جب آدھ پاؤ رہ جائے تو ۲ تولہ شہد ایک تولہ گائے کا گھی، گائے کا دودھ پانچ تولہ اور مصری ایک تولہ ملا کر بوقت عصر نوش فرمائیں۔ یہ دوا حیض سے فارغ ہو کر ایک ہفتہ استعمال کریں۔ ان شاء اللہ حمل قرار پا جائے گا۔
¤ بچوں کی اکثر امراض میں شہد مفید ہے۔ لذیذ ہونے کی وجہ سے بچے اسے شوق سے بھی کھاتے ہیں۔ بچوں کا وزن بڑھانے کے لیے شہد استعمال کرائیں۔
¤ آگ سے جلے ہوئے مریض بہت ہی خطرناک ہوتے ہیں۔ جلی ہوئی جگہ پر شہد لگائیں تو زخم ہی ٹھیک نہیں ہوتا بلکہ نشان بھی نہیں رہتا۔ ایک دفعہ ایک مزدور تیل کے بھرے ہوئے کڑاہے میں گر پڑا۔ پورا جسم جل گیا۔ پاس ہی شہد کے بھرے ہوئے تین چار کنستر پڑے تھے۔ مالکان نے فورا اس پر شہد کے کستر انڈیل دیے۔ کچھ دیر بعد وہ ہوش میں آیا۔ ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں نے کہا اس کے جسم پر نہ زخم کے نشان ہیں نہ جلے کے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ جلے ہوئے مقام پر شہد لگانے سے مکمل فائدہ ہو جاتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم شہد، حلوہ اور گوشت پسند فرماتے تھے اور آپؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ یہ بہترین غذا ہے۔
اگر کسی چیز کو شہد میں بھگو کر رکھیں تو وہ خراب نہیں ہو گی، خواہ کوئی پھل ہو، سبزی ہو یا گوشت حتیٰ کہ اگر کسی لاش کو خراب ہونے سے بچانا ہو تو اس کو بھی شہد لیپ کر رکھنا مفید ہے۔ اگر کسی زچہ خاتون کو دودھ کم اترتا ہو یا حیض تنگی سے آتا ہو تو صبح شام دو دو چمچ شہد کھانے سے مرض چلی جائے گی۔ شہد کے اتنے فائدے ہیں کہ شمار نہیں کیے جا سکتے

Featured Post